اہل الیبت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں نماز عید کے بعد دہشت "کالعدم مگر سرگرم" دہشت گرد ٹولوں کے خودکش کار حملے میں 11 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔یہ سچ ہے کہ دہشت گردوں کا دین اسلام سے تعلق نہیں ہے ورنہ ماہ مبارک رمضان کا روزہ رکھنے کے بعد نماز عید ادا کرنے والوں کی مسلمانی میں تو شک نہیں ہے۔ انھوں نے اس بار نماز عید کے شرکاء کو نشانہ بنایا۔کوئٹہ کی واحد شیعہ عیدگاہ میں کوئٹہ کے مقامی اور مقیم شیعہ نماز ادا کرنے کے لئے آتے ہیں اور اس روز لوگ مستحبات ادا کرکے اور نئے کپڑے پہن کر نماز کے لئے نکلتے ہیں اور بچے بھی ضد کرکے والدین کے ساتھ نماز کے لئے آتے ہیں لیکن ان کو کیا معلوم کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک کے حکمرانوں نے ایسے بے تشخص ٹولے پروان چڑھائے ہیں جو خون دیکھ کر نشہ ہوجاتے ہیں اور خون کی ہولی کھیل کر سکون حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لئے بڑوں اور بچوں کا قتل یکسان طور پر دلچسپ ہے اسی بنا پر انہیں درندے اور خونخوار بھی کہلاتے ہیں اور ان پر کفر و استکبار کی غلامی کا بجا الزام بھی ہے۔آج بھی کوئٹہ کی شیعہ عیدگاہ میں نمازیوں کا کافی ہجوم تھا، نماز ادا کرکے جب لوگوں نے اپنے دوستوں اور شناساؤں سے عید ملنے کے بعد جب عیدگاہ کے احاطے سے باہر آئے تو ان پر درندوں اور خونخواروں کا حملہ ہوا جس میں 10 سے گیارہ تک نمازی شہید اور 14 زخمی ہوئے۔ 5 گھر بھی تباہ ہوئے اور 15 گاڑیاں بھی جل کر خاکستر ہوگئیں۔اطلاعات کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ معمول کے مطابق دہشت گردوں کی کاروائی کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی پہنچا اور اسکواڈ کے اہلکاروں نے بتایا کہ دھماکے میں 40 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ ایک دستی بم نہیں پھٹ سکا تھا جبکہ اطلاعات کے مطابق اس کارنامے کا کریڈٹ "پولیس کو نہیں بلکہ اسکاؤٹس کے نوجوان شیعہ رضاکاروں کو جاتا ہے" کہ انھوں نے خودکش حملہ آور کی گاڑی کو عیدگاہ میں داخل نہیں ہونے دیا۔ ہمیں صرف چار شہداء کے نام مل سکے ہیں جو کچھ یوں ہیں: شہید علی جان، شہید شیر علی، شہید حاجی صادق اور شہید سید یوسف ولد سید اظہر شاہ۔اس واقعے کے بعد صوبے کے وزیر اعلی نے معمول کے مطابق اس دہشت گردانہ کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے ایک نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ یادرہے کہ اب تک ہونے والے تمام واقعات کے بعد وزیر اعلی نے متعدد بار تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں لیکن ان کی کارکردگی رپورٹ کا شاید وزیر اعلی کو بھی ابھی تک نہ ملی ہو اور شاید وہ خود بھی بھول گئے ہوں کہ انھوں نے اب تک ایسی کتنی ٹیمیں تشکیل دی ہیں؟۔عید الفطر کے شہداء کو بہشت زینب ہزارہ قبرستان میں دفنایا گیا۔شہداء کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی، لوگ نوحہ کناں شدید غم و غصے کا اظہار کررہے تھے۔ تاہم اپنے بلندحوصلے اور بہادری کا عزم کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ ہم حسینی پچھلے14 سو برسوں سے قربانیاں دیتے آرہے ہیں اور ان بزدل یزیدوں سے کبھی خائف نہیں ہونگے۔دھماکے میں زخمی اور شہید ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ایک سماجی نیٹ ورک پر درج ایک شکوہ چيف جسٹس آف پاکستان سے"انصاف کے مائی باپ افتخارچوہدری جواب دے وہ بچیاں جو چوڑاں پہنی ہوئی تھیں وہ ہاتھ خون میں کیسے بھیگ گئے؟ وہ بچے جو عید منا رہے تھے وہ کیوں مردہ خانوں میں خاموش لیٹے ہیں؟ آج عید ہے تو ہمارے گھروں میں سوگواری کیوں ہے؟ کالعدم تنظیموں کے بانی جو کھلے عام اُس بچے کو جو آج کوئٹہ میں ناحق مارا گیا، کافر کہتے ہیں اور اس کے قتل کے حُکم نامے جاری کیا کرتا ہے وہ آپ کی عدالت میں رہائی کا مستحق کیونکر ٹہرا؟ اور معصوم جانوں کا قتل عام روکنا ناممکن کیوں ہے؟"۔دس روزہ سوگ:مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان: شہداء کے غم میں دس روزہ عام سوگ کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم کوئٹہ میں نماز عید میں ہونے والی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتے ہیں؛ پہلے ہی واضع کرچکے ہیں کے کوئٹہ کے حالات کا ذمہ دار صرف امریکہ ہے؛ سید رحمن شاہ نے کہا کہ کوئٹہ میں امریکی سفیر کا دورہ اور یہ بلاسٹ ایک ہی سلسلہ کی دو کڑیاں ہیں۔بربریت عید کے دنایک صاحب نے لکھا: خدا کی لعنت ہو ان یزیدیوں پر جنہوں نے عید سعید فطر کے مقدس دن کو بھی اپنی بربریت کا دامن تھامے رکھا اور معصوم اور بے گناہ لوگوں کے خون سے اپنی پیاس بجھائی۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ یہ قوم مرنے سے نہیں ڈرتی۔ یہ قوم شہادتوں سے قوت حاصل کرتی ہے اور اس کا عقیدہ محکم ہوتا ہے۔ جیو حسینیو۔سلسلہ عزا و ماتم رکے گا نہیںایک صاحب نے لکھا: یزید اور اس کے پس پردہ حامی جتنا بھی زور لگادیں سلسلہ عزا و ماتم حسین (ع) کی صدا ہمیشہ گونجتی رہے گی اور یہ قوم سربلند رہے گی۔ یا حسین (ع)۔شیعہ پہچان چھپانے سے جانیں نہیں بچا کرتیںایک صاحب نے کوئٹہ سے لکھا: آج کوئٹہ میں بروز عید ایک خونی سانحہ ہوا اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس موقع پر ہم، قوم کو یرغمال بنانے والے ایک نام نہاد قوم پرست منافق ٹولے سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اب عید کے اجتماعات پر بھی پابندی لگائی جائے؟ جیسا کہ سانحہ القدس 2010 پر انہوں نے پروپاگنڈا کیا تھا کے یہ سلسلہ بند کیا جائے، سوال یہ بھی ہے کہ کیا کیا اپنی شیعہ پہچان چھپانے سے آپ کی جانیں بچ جائیں گی؟
پولیس مفقود تھی
اطلاعات کے مطابق عیدگاہ کے قریب کوئی بھی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔کوئٹہ کے شیعہ رضاکار اگر نہ ہوتے توایک صاحب نے لکھا: کوئٹہ کے رضاکاروں نے بارود سے بھری گاڑی کو عید گاہ کے اندر داخل ہونے سے روک دیا دھماکہ پارکنگ پر ہوا ورنہ تو ۔۔۔ ادھر مختلف شیعہ تنظیموں کی طرف سے بیانات جاری ہورہے ہے اور مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ نے دس دن سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ایک برادر کا پیغام: میں قریب ہی اسی روڈ پر کھڑا تھا جہاں گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ ایک عورت کی گاڑی سے ٹکرا گئی اور دھماکا ہوا۔ سیکورٹی نہیں تھی کوئی پولیس وغیرہ نہیں تھی۔ طوغی روڈ عیدگاہ کے باہر سیکورٹی تھی اور روڈ بند تھا اور آرمی والے گلستان روڈ میں بھی سیکورٹی کے انتظامات کرچکے تھے لیکن خیال یہی ہے کہ دہشت گردوں کی گاڑی اسی راستے سے داخل ہوئی تھی۔دہشت گردوں کی گاڑی میکانگی روڈ سے تیل گودام کے راستے سے لکڑی کی ٹالوں کے ساتھ نالے کے کنارے والے راستے سے یا پھر میزان چـوک سے آسکتی تھی لیکن وہاں پولیس موجود تھی اور ایک ہی بات ہوسکتی ہے کہ دہشت گردوں نے گاڑی کئی دن قبل تیل گودام کے قریب پارک کی ہو یا پھر پولیس والے دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہوں۔ ٹائمنگ صحیح تھی موقع پر کوئی انفارمر اٹیکر کو ہدایات دے رہا تھا۔ دہشت گرد مرد تھا اس کی گاڑی ایک خاتون کی گاڑی سے ٹکرائی جس سے دھماکا ہوا۔ اس نے خودکش جیکٹ بھی پہنی تھی اور گاڑی میں بھی چالیس کلوگرام دھماکا خیز مواد تھا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر اگر دہشت گرد کی گآڑی اس عورت کی گاڑی سے نہ ٹکراتی تو زیادہ تباہی پھیلنے کا خدشہ تھا؟
بلوچستان شیعہ کانفرنس: امن و امان کے قیام کے لئے کوئٹہ فوج کے حوالے کیا جائے
ویڈیو بھی دیکھئے جو درحقیقت تصاویر کی اسلائیڈ شو ہے:
تصویریں:












